جمعرات , 29 اکتوبر 2020ء
(231) لوگوں نے پڑھا
جلدی بیماری سورائسیس کاعالمی دن آج منایاجارہاہے ،اس حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز کے شعبہ ڈرماٹالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شہباز امان نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سورائسیس سے 12کروڑ50لاکھ سے زائد افرادمتاثر ہوتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ سورائسیس کے بارے میں آگہی ہماری صحت کی پالیسی کا ایک حصہ ہونا چاہیے انہوںنے کہا کہ اس مرض میں سرخ بالوں والی جلد کے زخموں میں سوجن اور خارش پیدا ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر جاوید نے پاکستان سورائسیس فاؤنڈیشن ڈیٹا سے اتفاق کیا ہے جس کے مطابق سورائسیس کے 5,000 مریضوں کے سروے سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق 20فی صد خواتین نے کہا ہے کہ سورائسیس ان کی روزمرہ کی زندگی میں ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے ۔سورائسیس سوزش والا ایک دائمی اور مدافعتی ثالثی مرض ہے جس میںایک تہائی مریضوں کی عمر عموماً 18سال سے کم ہوتی ہے۔ بچپن میں موٹاپے (زیادہ وزن) کا سورائسیس سے تعلق ہونا اس مرض کے لاحق ہونے کے عوامل میں شما ر کیا جاتا ہے۔