جمعہ , 23 اکتوبر 2020ء
(203) لوگوں نے پڑھا
میٹرو اورنج ٹرین کے چلنے سے پیدا دھمک اور تھرتھراہٹ کا جائزہ لینے کے لیے ایل ڈی اے نے روٹ پر مزید 40 سے زائد وائبریشن مانیٹرنگ آلات نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میٹرو اورنج ٹرین کی تعمیر کے دوران سول سوسائٹی کے اعتراضات کے معاملے پر چلتی ٹرین کی دھمک سے تاریخی مقامات اور آبادیوں کے خدشات پر سپریم کورٹ نے احکامات دئیے۔ عدالتی حکم پر وائبریشن چیک کرنے کے لیے سپیشل کمیٹی تشکیل دی گئی اور خصوصی آلات لگائے گئے۔ اورنج ٹرین کے باقاعدہ آپریشن کے بعد اب ٹرین کے چلنے سے پیدا وائبریشن کو مزید باریکی سے چیک کیا جائے گا۔ ایل ڈی اے نے تاریخی مقامات سمیت دیگر مقامات پر بھی مزید آلات لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ ٹریک سے ملحقہ ریلوے کی کچی آبادیوں میں بھی وائبریشن چیک آلات لگائے جائیں گے۔ چوبرجی، سپریم کورٹ رجسٹری، جی پی او اور شالیمار باغ سمیت 11 نئے مقامات پر آلات نصب ہوں گے۔ روٹ پر آنے والی کثیر المنزلہ عمارتوں میں بھی وائبریشن کو چیک کیا جائے گا۔ وائبریشن مانیٹرنگ انسٹرومنٹ کی خریداری اور تنصیب کا کام 28 نومبر تک مکمل ہو گا۔ نئے آلات کی خریداری کے لئے 59 لاکھ 60 ہزار روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔ آلات کی تنصیب کا کام نجی کنٹریکٹرز سے کروایا جائے گا۔ آلات کے بارے میں ماہانہ رپورٹ مرتب کر کے سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ علی ٹاؤن سے ڈیرہ گجراں تک 40 سے زائد آلات نصب ہوں گے۔