ہفتہ , 05 ستمبر 2020ء
(182) لوگوں نے پڑھا
لاہور میں کئی گھنٹےمسلسل150ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جس سے متعدد علاقے زیر آب آگئے تاہم انتظامیہ نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہرکے زیادہ تر علاقوں سے چند گھنٹوں میں پانی نکال دیا، شدید بارش میں لیسکو کے 60 سے زائد فیڈر ڈیڈ شارٹ ہو گئے، بارش کی وجہ جس سے پنجاب اسمبلی سمیت کئی اداروں کے دفاتر کی چھتیں ٹپکنے لگیں جو افسران و ملازمین کی شدید مشکلات کا سبب بن گئی، ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کی چھتیں ٹپکنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا رہا، لاہور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے انصاف کے اداروں کو بھی پانی پانی کر دیا، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ،لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتیں پانی میں ڈوب گئیں جسکی وجہ سے وکلا اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر نابھہ روڈ پر جمع بارشی پانی سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہوگیاجبکہ لاہور ہائیکورٹ کے باہر جی پی او چوک اور ہائیکورٹ کے احاطوں میں بھی پانی بھر گیا، اسی طرح ماتحت عدالتوں کے احاطے بھی تالاب کا منظر پیش کرتے رہے تاہم انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے عدالتی احاطوں سے بارشی پانی جلد نکال دیا گیا ۔شہر کےپوش علاقے، نشیبی آبادیاں اور مضافاتی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں، کوٹ لکھپت، ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، لبرٹی چوک، گلبرگ،ریلوے اسٹیشن کے اطراف، فیروز پور روڈ پر بھی گھٹنوں تک پانی ، شہرمیں طوفانی بارش سے نشیبی علاقےزیر آب آگئے، سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنےلگیں،گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں پانی میں بندا ور گھروں میں پانی داخل ہونے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔ بارش سے ٹاون شپ کی اہم شاہرائیں زیر آب آگئیں۔ واسا نے کمال مہارت دکھاتے ہوئے شہر سے 4گھنٹوں میں نکاسی آب کا آپریشن مکمل کر لیا اہم مقامات لکشمی چوک، جی پی او، حاجی کیمپ، دو موریہ پل، والٹن روڈ، جیل روڈ، ڈیوس روڈ سے پانی نکالنے میں واسا کامیاب رہا۔ ایم ڈی سید زاہد عزیز واسا تمام وقت نکاسی آب کے آپریشن کی خودنگرانی کرتے رہے۔