جمعرات , 22 اکتوبر 2020ء
(155) لوگوں نے پڑھا
پنجاب یونیورسٹی کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ ہوا، اندھی گولی لگنے سے 22 سالہ فاطمہ جان سے گئی۔ اقبال ٹاؤن نشتربلاک کی رہائشی فاطمہ والد کے ہمراہ بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکی۔ ڈولفن و پولیس ریسپانس یونٹ کا پنجاب یونیورسٹی کے قریب ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوا، تینوں مسلح ڈاکوؤں نے سمن آباد ملت پارک میں یکے بعد دیگرے وارداتیں کیں، ڈولفن سکواڈ اور پی آر یو ڈاکوؤں کا تعاقب کر رہے تھے، پنجاب یونیورسٹی کے قریب ڈاکوؤں نے ٹیم پر فائرنگ کر دیں۔ ڈاکوؤں کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر فاطمہ نامی لڑکی موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ ڈولفن اور پی آر یو نے تینوں مسلح ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔ مقامی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، ڈولفن پولیس نے گرفتار ہونے والے ڈاکو مقامی پولیس کے حوالے کر دیئے۔ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت کرلی گئی ہے، ڈاکوؤں میں حسن، وسیم اور فیصل شامل ہیں۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب انعام غنی نے پنجاب یونیورسٹی کے قریب پولیس مقابلے کا نوٹس لے لیا۔ آئی جی نے ڈی آئی جی آپریشنز کو واقعہ کی تحقیقات اپنی نگرانی میں کروانے کا حکم دے دیا۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز تحقیقاتی رپورٹ جلد از جلد بھجوائیں۔