ہفتہ , 05 ستمبر 2020ء
(121) لوگوں نے پڑھا
لاہور کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتارسابق چیف انجینئر ٹیپا‘ ایل ڈی اے ملزم مظہر حسین و شریک ملزم انجم ذیشان کو 17 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔ جمعہ کے روزعدالتی سماعت پرنیب کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ ملزمان پر70 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثہ جات و بینک اکاؤنٹس بنانے کا الزام ہے۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مظہر حسین ایل ڈی اے میں بطور چیف انجینئر بھی تعینات رہا، 50 کروڑ مالیت کیاثاثہ جات اپنے اور اہل خانہ کے نام بنائے،ملزم مظہر حسین نے اپنے 20 ہزار ماہانہ کے ملازم بھانجے کے نام 20 کروڑ روپے منتقل کیے،نیب لاہورنے ملزم مظہر حسین کیخلاف گزشتہ سال مبینہ مالی غبن کی شکایت پر انکوائری کا آغازکیا تھا، دوران انکوائری ملزم کا دیگر شریک ملزمان کی معاونت سے مختلف سرکاری پراجیکٹس میں مالی فوائد حاصل کرنے کے شواہد موصول ہوئے۔ملزم نے ایمنیسٹی سکیم کے نام پر کروڑوں روپے کا اپنے اور اہل خانہ کے اثاثہ جات میں اضافہ کیا۔