بدھ , 15 جولائی 2020ء
(261) لوگوں نے پڑھا
گوجرہ کے مشہور ہاکیاں والا چوک سے موچی والا روڈ کی طرف جائیں تو تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سلاٹر ہاؤس کی عمارت واقع ہے۔چھ کنال رقبہ پر مشتمل عمارت 1972 میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کی چار دیواری اور مین گیٹ کے باہر جانوروں کا فضلہ اور گندگی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ اس گندگی کو اٹھانا بلدیہ کے ملازمین کی ذمہ داری ہے جو اسے روزانہ کی بنیاد پر اٹھانے کی زحمت تو گوارا نہیں کرتے لیکن ذبح ہونے والے جانور کی فیس ضرور وصول کی جاتی ہے۔ اس کے باہر روزانہ صبح جانوروں کی منڈی لگتی ہے جہاں سے خریدے گئے جانور یہاں ہی ذبح کیے جاتے ہیں اور تصدیقی مہر لگوانے کے بعد انہیں بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ گوجرہ کے لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کا روزگار اس کاروبار سے جڑا ہوا ہے جو سلاٹر ہاؤس میں سہولیات کے فقدان اور عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے پریشان ہیں۔پچاس سالہ محمد اقبال گزشتہ تیس سال سے غلہ منڈی گیٹ کے پاس گوشت کی دکان چلا رہے ہیں اور انجمن قصاباں کے نائب صدر بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال قبل ان کی تنظیم کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد بلدیہ نے سلاٹر ہاؤس کی چار دیواری تعمیر کروا کے وہاں گیٹ لگوا دیا تھا لیکن باقی عمارت جوں کی توں ہے۔ اس عمارت کا فرش جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے جبکہ جانوروں کا فضلہ اٹھانے کے لیے بھی کوئی ٹینک موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے گندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔بلدیہ گوجرہ کی جانب سے تعینات ڈیوٹی آفیسر ترپن سالہ محمد اکرام کا کہنا تھا کہ یہاں ان سمیت تین ملازم اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں. ہم بڑے جانور کی فیس پپچاس جبکہ چھوٹے کی پچیس روپے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دو خاکروب یہاں ہر وقت صفائی کے لیے موجود رہتے ہیں اور بلدیہ کی جانب سے پانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ ویٹرنری ڈاکٹر اور سلاٹر ہاؤس کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد نواز کا کہنا تھا کہ ان کے فرائض میں یہاں آنے والے جانور کا دو مرتبہ معائنہ کرنا ہے۔'یہاں آنے والے ہر جانور کا مکمل معائنہ کیا جاتا ہے اور کم عمر اور لاغر جانور کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ہر ماہ تقریباً دس جانور کم عمر اور دو بیماری کی وجہ سے رجیکٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے جانور کی کم از کم عمر ایک سال اور چھاٹے جانور کی چھ ماہ ہونا ضروری ہے۔'جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے جسم کے چھ مختلف حصوں پر تصدیقی مہر لگا دی جاتی ہے جس کے بعد قصائی حضرات اسے فروخت کے لیے بازار لے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص بنا تصدیق کروائے گوشت فروخت کرتا پایا جائے تو اس کا چالان کیا جاتا ہے اور گوشت بھی تلف کر دیا جاتا ہے۔ ہم نے گزشتہ تین ماہ کے دوران مختلف دکانوں پر غیر معیاری گوشت کی تصدیق ہونے پر پینتالیس ہزار روپے سے زائد کے جرمانے کیے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ چیئرمین بلدیہ گوجرہ میاں محمد اسلام کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو کافی عرصے کے بعد اختیارات کی منتقلی عمل میں آئی ہے اور ان کے سامنے بے شمار حل طلب مسائل موجود ہیں۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سلاٹر ہاؤس کی بہتری اور نئی عمارت کی تعمیر کے لیے ضرور فنڈز مختص کیے جائیں گے۔