جمعہ , 10 جولائی 2020ء
(139) لوگوں نے پڑھا
اعجاز فاروق کے گاؤں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں کے لوگ مذہبی فرائض نبھانے کے بعد دوستی کا فرض بھی نبھاتے ہیں۔گاؤں کی تنگ گلیوں میں اذان گونج رہی ہے۔ اعجاز مسجد میں با جماعت نماز پڑھ رہے ہیں۔ مسجد سے نکلتے ہی وہ گرجا گھر کا رخ کرتے ہیں۔ اس گرجا گھر کی ابھی دیواریں ہی کھڑی ہیں۔ اعجاز بھی باقی گاؤں والوں کے ساتھ کھدائی کر رہے ہیں، اینٹوں پر لیپ لگا رہے ہیں۔ گاؤں کی مسیحی برادری کے لیے پہلا گرجا گھر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کی تعمیر کا بوجھ مسلمان اور مسیحی برادری کے افراد کندھے سے کندھا ملا کر اجتماعی طور پر بانٹ رہے ہیں۔اعجاز فاروق نے کہا ’ہماری مسجد تو یہاں کب سے موجود ہے لیکن ہمارے مسیحی دوستوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی عبادت کر سکیں، ہماری مسجد ہے تو ان کا گرجا بھی گاؤں میں ہونا چاہیے۔پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تشدد اور عدم برداشت کے واقعات روز سامنے آتے ہیں ، لیکن ان ہی شورش زدہ علاقوں میں ایسی کمیونٹیز بھی ہیں جو قومیت اور برادری کے جذبے کو مسلک اور فرقے سے بالاتر سمجھتی ہیں۔ پنجاب کے علاقے گوجرہ کے قریب یہ چھوٹا سا گاؤں ایسی ہی چھوٹی سی کاوش کر رہا ہے جہاں کے مسلمان رہائشی اپنی محدود آمدنی کی پائی پائی جوڑ کر اپنے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمسائیوں کے لیے ایک گرجا گھر اپنے ہاتھوں سے تعمیر کر رہے ہیں۔ اب تک پچاس ہزار روپے کا چندہ اکھٹا کر کے یہ لوگ گرجا گھر کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں اور حوصلے بلند ہیں کہ اس بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ باقی رقم بھی جمع کر کے ’سینٹ جوزف چرچ‘ کو ایک حقیقت بنا لیں گے۔