Chinot City
پیر , 27 جولائی 2020ء
(247) لوگوں نے پڑھا
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے نواحی گاوٗں چک 136 کے مکین آج کل اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ اب وہ مسلمان ہیں یا نہیں، اور کیا ان کا نکاح باقی رہا ہے کہ نہیں۔ گاؤں میں یہ تمام کنفیوژن پھیلانے کے ذمہ دار مبینہ طور پر اسی گاؤں کے امامِ مسجد ہیں جو گاؤں کے لوگوں کا دوسری بار نکاح پڑھوانے کے بعد اب تیسری بار پڑھوانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں مذہب اور عقائد کے نام پر کسی کو بھی استعمال کرنا کس قدر آسان ہے، اس کی ایک مثال چنیوٹ کا گاؤں چک نمبر 136 ہے۔ اس علاقے کے مکینوں کے مطابق مقامی مسجد کے امام میاں خالد بشیر نے دس روز پہلے اعلان کیا کہ گاؤں میں اہل تشیع کے مسلک سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والے افراد اب مسلمان نہیں رہے، اب انھیں نئے سِرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑے گا، اور پھر وہ ان کے دوبارہ نکاح پڑھوائیں گے۔ گاؤں کے رہائشی قاسم علی تصور نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز پہلے گاؤں کے امام مسجد میاں خالد بشیر نے ان کی بھانجی کی نمازِ جنازہ پڑھوانے سے اس لیے انکار کیا کہ 'ان کا تعلق شیعہ مسلک' سے تھا جس کے بعد قریبی گاؤں کے امام مسجد کو بلایا گیا، 'تاہم میاں خالد نے اعلان کیا کہ اس نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والے تمام لوگ اب مسلمان نہیں رہے اور ان کا دوبارہ نکاح ہوگا۔ قاسم علی کے مطابق امام مسجد میاں خالد اس سلسلے میں ایک فتویٰ بھی لے کر آئے جس کے بعد علاقے کے لوگوں نے ان کی بات مان لی۔ قاسم علی تصور کہتے ہیں کہ 'لوگوں نے امام میاں خالد سے پوچھا کہ اس نئے نکاح کی رجسٹریشن کیسے ہو گی، تو انھوں نے بتایا کہ نکاح کی رجسٹریشن پہلے ہو چکی ہے اور اب دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔' تاہم اب علاقے کے لوگوں کے مطابق میاں خالد کہتے ہیں کہ 'چونکہ عدت پوری نہیں ہوئی، اس لیے دوسرا نکاح بھی مکروہ ہے، اور وہ عدت کی تکمیل کے بعد پھر نکاح کروائیں گے۔'میاں خالد بشیر میڈیا کی آمد کی خبر سننے کے بعد گاؤں میں ملے ہی نہیں۔ دوسری جانب گاؤں کے رہائشی قاسم علی تصور کی بھانجی کی نماز جنازہ پڑھوانے والے چک نمبر 137 کے امام مسجد سید کاشف عمران شاہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے یہ نماز جنازہ پڑھوائی اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ جو مولانا میاں خالد بشیر نے کہا ہے کہ نکاح ٹوٹ گیا ہے اور دوبارہ نکاح کروا کر رہے ہیں اس طرح سے نکاح نہیں ٹوٹتا ۔ بشکریہ بی بی سی "