Chinot City
اتوار , 06 ستمبر 2020ء
(675) لوگوں نے پڑھا
یوم دفاع پاکستان ہمیں ان دن کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کے شہیدوں، جری جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیور پاسبانوں کی ٖہرست میں اپنا نام رقم کیا۔ان کا یہ ہی جذبہ شجاعت تھا جس نے پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر اپنے سے پانچ گنا بڑے اور جدید اسلحہ سے لیس دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملایا دیا۔ جس طرح سرحدوں کے حفاظت پر پاک فوج کے جوان سر با کفن ہیں اسی طرح سرحدوں کے اندر بھی جوان دہشت گردوں کے مقابلے میں سربا کفن لڑ رہے ہیں اور پاکستان کو بچانے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اسی طرح کالونی شیخن۔ ضلع چنیوٹ کے پاک آرمی کے جوان سپاہی ساجد علی شہید نے بھی پاکستان کو سلامت رکھنے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ سپاہی ساجد علی شہید بیج نمبر 2421913 پاکستان آرمی میں 16 پنجاب رجمنٹ مردان کے بہترین سپاہیوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ابتدائی تعیم کے دوران ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ پاک آرمی کو جوائن کریں گے اور ملک کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گئے۔ اسی طرح 2005 میں انہوں نے پاکستان آرمی میں فرنٹیر ی سولجر کے طور پر حصہ لیا۔ اسی طرح 2 سال کی بہترین کارکردگی کے بعد ان کو سوات میں آپریشن کے لیے بھیج دیا گیا۔ اس وقت 2008 میں سوات کو دہشت گردوں سے کلیئر کروانے کے لیے سوات میں سب سے پہلا اور بڑا آپریشن "شیر دل" شروع کیا گیا تھا۔ اسی آپریشن میں اپنے ایک کیپٹن کے ساتھ رات کے پہر ایک علاقہ کلیئر کرواتے وقت جام شہادت نوش کیا۔ اگر میں یہ کہوں کہ سوات کے پہلےآپریشن میں شیخن کا لہو شامل ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا۔ اس نوجوان کی عمر 25 سال تھی ۔ 25 سال کے اس نوجوان نے ملک کو سلامت رکھنے کے لیے جا ن نچھاور کر دی۔ 6 ستمبرکو جہا ں 1965کے جوانوں کو یاد رکھا جائے گا وہاں ہمیں اس شہید کے قبرپرجا کر بھی فاتحہ خوانی کرنی چاہیے۔ ان کے والد رحمت علی سے جب ہم نے بات کی تو ان کا کہنا تھا میرے بیٹے نے اس ملک کو سلامت رکھنے کے لیے جان قربان کی ، اس کی شہادت پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر اس ملک کے لیے مزید جان دینے کے ضرورت پڑی تو ہم پیچھے نہیں رہیں گئے۔ یہ ملک سلامت رہے گا تو ہم بھی سلامت رہیں گئے۔ سپاہی ساجد علی شہید کے والد نے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سپاہی ساجد علی اور ان جیسے بے شمار جانباز جنہوں نے وطن کی راہ میں جان کی قربانی دی انہیں اتنی جلدی بھلا دینا مُردہ قوموں کی نشانی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 'یومِ دفاع' کے دن جس طرح پورے ملک میں شہیدوں کو یاد کیا گیا وہاں شیخن سے تعلق رکھنے والے کسی بھی سرکاری، سیاسی یا سماجی حلقے کی طرف سے اُن کی یادگار پر جا کر فاتحہ خوانی نہیں کی گئی یہ تو دور کی بات رہی ان جیسوں کو بھول جانا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ بشکریہ، سید اظہارباقر