Naveed
ہفتہ , 06 فروری 2016ء
(164) لوگوں نے پڑھا
سمندری، اے سی سمندری اور اس کے عملہ کو زدوکوب کرنے کیخلاف ضلع فیصل آباد کے پٹواریوں کی ہڑتال مسلسل جاری، پٹواریوں نے ہڑتال کو مزید نو فروری تک بڑھا دیا ہے جبکہ ہزاروں شہری اور دیہاتی اپنی اراضی کی فرض جمع بندی اور دیگر کاغذات کے حصول کیلئے پریشان، پٹواریوں نے بھاری رشوت لیکر سابقہ تاریخوں میں کاغذات جاری کرنے شروع کردیئے ہیں۔آن لائن کے مطابق چند روز قبل اے سی سمندری امراء خان نے بلدیہ اور تحصیل کے عملہ کے ہمراہ ناجائز تجاوزات کی آڑ میں سمندری شہر کے نواحی علاقے میں آبادی کو غیر قانونی قرار دیکر بلڈوزروں کے ذریعے گرانا شروع کردیا ہے اس دوران آبادی رہائش پذیر خواتین بچے مرد گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے احتجاج شروع کردیا اس احتجاج کے دوران اے سی سمندری عملہ اور خواتین مردوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جس کے نتیجے میں اے سی سمندری اور دیگر عملہ زخمی بھی ہوئے بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر سمندری نے ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر تھانہ سمندری میں پچاس سے زائد افراد جن میں خواتین بھی شامل ہیں کیخلاف سرکاری کام میں مداخلت اور دہشتگردی کے الزام میں مقدمہ درج کرادیا تھا ان میں سے بعض افراد نے عدالت سے آٹھ فروری تک عبوری ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کروالی اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے ضلع بھر کے پٹواریوں نے جن میں تحصیل جڑانوالہ، چک جھمرہ، سمندری تاندلیانوالہ اور فیصل آباد شامل ہیں کے پٹواریوں نے ہڑتال کردی جس کی وجہ سے اراضی اور جائیداد کی خریدوفروخت کا کام ٹھپ ہوگیا عوام کو شدید مشکات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی کے ساتھ ساتھ بعض پٹواریوں نے بھاری رشوت لیکر مبینہ طور پر سابقہ تاریخوں میں پراپرٹی اور فروخت کرنے والوں سے لاکھوں روپے رشوت لیکر کاغذات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اسی حوالے سےسیاسی جماعت سنی اتحاد کونسل نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چادر اور چار دیوار کو پامال کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر سمندری اور دیگر عملہ کو معطل کرکے ان کیخلاف مقدمات درج کئے جائیں اس سلسلہ میں متاثرین کو بعض ممبران قومی اسمبلی اور صوبائی کی حمایت بھی حاصل ہے۔