Naveed
پیر , 22 جون 2020ء
(122) لوگوں نے پڑھا
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سائنسدانوں نے غربت کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے غریب دیہی خاندانوں میں گائیوں کی تقسیم کے ماڈل کی کامیاب تکمیل یقینی بنا دی جو وزیراعظم کے غربت کے خاتمے کے پروگرام کے لئے ایک کلیدی منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ماڈل کے ذریعے سمندری اور ڈجکوٹ کے مختلف چکوک سے 30خاندانوں کو نہ صرف روزگار میسر آیا بلکہ ان خاندانوں نے بچوں کی شادی اور تعلیم کے لئے وسائل بھی ممکن بنائے۔ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد منتخب خاندانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور ان کے بچوں میں پائی جانے والی غذائی کمی کے خاتمے کو یقینی بنانا تھا۔ ترکی کے تعاون سے 2018ء میں شروع ہونے والے اس پراجیکٹ کو ایک سال کے لئے زیرتکمیل لایا گیااس منصوبے کے تحت تمام ساہیوال نسل کی گائیوں کی مصنوعی نسل کشی بھی یونیورسٹی کے ماہرین کی نگرانی میں یقینی بنائی گئی اور ان سے پیدا ہونے والے بچھڑے بھی اسی طریقے سے یونیورسٹی کے اس منصوبے کے زیرنگرانی رہے۔ اس منصوبے کی نگرانی ڈین کلیہ ویٹرنری سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی نے کی۔ انہوں نے منصوبے کی تکمیل پر مذکورہ 30خاندانوں کے ہاں جانوروں کا معائنہ کیا اور علاقے میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خاندان کا دودھ دینے والے جانور غریب خاندانوں میں تقسیم کرنے کا انقلابی اقدام نہ صرف ملک سے غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ لوگوں کی خوراک کی کمی کے مسائل بھی اس کے ذریعے سے حل ہو سکیں گے۔ڈاکٹر ظفراقبال قریشی نے کہا کہ اس منصوبے کے نتیجے سے ایک غریب خاندان نے دودھ بیچ کر اپنی 6 بیٹیوں کا نکاح یقینی بنایا جبکہ ایک اور خاندان کی بیٹیوں نے تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خاندان کی ایک بیٹی نے میٹرک میں پوزیشن بھی حاصل کی۔ ڈاکٹر ظفراقبال قریشی نے اس منصوبے کے اختتام پر تمام جانور جو اب دو سے بڑھ کر تین تین ہو چکے تھے مستقل بنیادوں پر ان خاندانوں کی ملکیت میں دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ یونیورسٹی اب بھی ان خاندانوں کے لئے مشاورتی خدمات سرانجام دیتی رہے گی۔