ہفتہ , 04 اپریل 2026 ء
ٓاپ کو معلوم ھے کہ ٓاپ کے علاقہ کمالیہ میں کیا ہو رہا ہے؟

فیصل آباد ڈویژن

گھر کی چھت ٹوٹنے کے بعد متاثرین امداد کے منتظر تیز رفتار بس کی کار کو ٹکر، 2 افراد زخمی دریائے چناب میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب کر جانبحق اسکول میں لگے بجلی کے کھنبے ناخوشگوار حادثے کا سبب بن سکتے ہیں گلیوں میں پانی جمع ہونے سے اہل محلہ پریشان تازہ ترین خبریں

ماضی کے جھروکوں سے: مگنیجہ ریلوے اسٹیشن

ماضی کے جھروکوں سے: مگنیجہ ریلوے اسٹیشن
جمعرات , 27 اگست 2020ء (675) لوگوں نے پڑھا
لاھور کو شورکوٹ چھاؤنی سے ملانے والے ریلوے ٹریک پر واقع یہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن اپنی منہدم ہوتی دیواروں کے اندر ماضی کی بہت سی انمول یادیں سمیٹے ہوئے ہے، کمالیہ سے مغرب کی جانب اور سابق ایم پی اے اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی، علاقہ بھر میں رعب و دبدبے کی علامت سردار غلام عباس خاں گادھی مرحوم کے آبائی گاؤں 661/2 گ ب سے جانب جنوب چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع یہ قدیم اسٹیشن پاکستان بننے کے بعد کئی عشروں تک ارد گرد کے متعدد دیہات کے باسیوں کو لاھور سے شورکوٹ چھاؤنی کے درمیان سفر کی سہولیات فراہم کرتا رہا، مگر اب گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیڑھی میڑھی متروک پٹڑی کے کنارے کھڑا یہ اسٹیشن کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے، نئی نسل کو تو شاید اس کا نام اور محل وقوع بھی یاد نہیں، چیدہ چیدہ بزرگ جنہوں نے یہاں نہ صرف ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کا نظارہ کیا ہے بلکہ یہاں سے سوار ہو کر لاھور و شورکوٹ کی جانب متعدد مرتبہ سفر کیا تھا، آج بھی اپنے سفر کے قصے مزے لے لے کر سناتے ہیں، ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مقامات کی خستہ حالی ملک کی انتظامیہ کے منہ پر کسی طمانچہ سے کم نہیں ہے۔ 
  • بچے اور کنبے
  • سفر

Email will Not publish publicly. Please access our Privacy Policy to learn what personal data MeriDharti.pk collects and your choices about how it is used. All users of our service are also subject to our Terms of Service.

Recieve News alerts?

Log in to get started

Forgot your password?

New to MeriDharti.pk? Sign up now