جمعرات , 27 اگست 2020ء
(675) لوگوں نے پڑھا
لاھور کو شورکوٹ چھاؤنی سے ملانے والے ریلوے ٹریک پر واقع یہ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن اپنی منہدم ہوتی دیواروں کے اندر ماضی کی بہت سی انمول یادیں سمیٹے ہوئے ہے، کمالیہ سے مغرب کی جانب اور سابق ایم پی اے اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی، علاقہ بھر میں رعب و دبدبے کی علامت سردار غلام عباس خاں گادھی مرحوم کے آبائی گاؤں 661/2 گ ب سے جانب جنوب چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع یہ قدیم اسٹیشن پاکستان بننے کے بعد کئی عشروں تک ارد گرد کے متعدد دیہات کے باسیوں کو لاھور سے شورکوٹ چھاؤنی کے درمیان سفر کی سہولیات فراہم کرتا رہا، مگر اب گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹیڑھی میڑھی متروک پٹڑی کے کنارے کھڑا یہ اسٹیشن کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے، نئی نسل کو تو شاید اس کا نام اور محل وقوع بھی یاد نہیں، چیدہ چیدہ بزرگ جنہوں نے یہاں نہ صرف ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کا نظارہ کیا ہے بلکہ یہاں سے سوار ہو کر لاھور و شورکوٹ کی جانب متعدد مرتبہ سفر کیا تھا، آج بھی اپنے سفر کے قصے مزے لے لے کر سناتے ہیں، ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مقامات کی خستہ حالی ملک کی انتظامیہ کے منہ پر کسی طمانچہ سے کم نہیں ہے۔