جمعرات , 20 اگست 2020ء
(400) لوگوں نے پڑھا
تھانہ صدر کمالیہ میں دوران ہراست ملزم کے جانبحق ہونے کے بعد لواحقین کا تھانہ صدر کمالیہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرہ میں خواتین کی بڑی تعداد بھی تھی مظاہرہ میں پولیس کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔ بعد ازاں آر پی او فیصل آباد رفعت مختار راجہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او راجہ سیف اللہ نائب محرر اختر شاہ کو معطل کردیا اور ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ رانا عمر فاروق سے واقعہ کی انکوائری رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ ورثاء کے مطالبہ پر پوسٹ مارٹم اور جوڈیشل انکوائری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ لواحقین نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے دوران تفتیش مبینہ طور پر تشدد سے مار ڈالا جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمہ نمبر 471/20 مورخہ 19.8.20 بجرم تھانہ صدر کمالیہ حوالات میں بند ملزم مشرف علی ولد حامد علی قوم کاٹھیہ سکنہ سی 18 ٹکڑا ساہیوال کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی جسکو فوری ٹی ایچ کیو ہسپتال کمالیہ داخل کروایا گیا جہاں ملزم کی وفات ہو گئی وقوعہ کی اطلاع پر ڈی ایس پی کمالیہ موقع پر پہنچ گئے۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ نعش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے اقدامات کر رہے ہیں ملزم پر کسی قسم کا تشدد وغیرہ نہیں کیا گیا ہے ملزم مشرف نشے کا عادی تھا تاھم ڈی ایس پی کمالیہ نے متعلقہ مجسٹریٹ سے ریکوسٹ کی ہے کہ معاملے کی انکوائری کے لئے پوسٹمارٹم کروایا جائے تا کہ قانون کے تمام تر تقاضے پورے کئے جائیں۔