ہفتہ , 15 اگست 2020ء
(169) لوگوں نے پڑھا
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کرسچین شخص یونس مسیح کا قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اسے پانچ پولیس افسران نے تشدد کرکے مار ڈالا۔ مارنے کی وجہ یہ ہے کہ مبینہ طور پر اس نے اپنے بیٹے کو اپنے کزن کے قتل میں کلیدی گواہ بننے سے نہیں روکا تھا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے اس طرح کا غیر انسانی سلوک کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ مارنے سے پہلے اس پر اور اس کے بچوں پر منشیات فروشی کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔اس سارے معاملے میں جس شخص نے اس سے پہلے قتل کیا تھا وہ شازیب جٹ نامی ملزم ہے جس نے آپسی لڑائی میں خرم مسیح کو قتل کردیا تھا ملزم شاہ زیب گرفتار ہے اور پولیس کی حراست میں ہے جبکہ اس قتل کا مرکزی گواہ یہی یونس مسیح کا بیٹا تھا جس پر کئی بار گواہی سے روکنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا ہے ملزم شاہ زیب بااثر خاندان سے ہے جنہوں نے مبینہ طور پر پولیس کو رشوت دے کر اپنی جانب کردیا ہے۔ متوفی خاندان کے ورثا نے اعلٰی حکام سے پرزور اپیل کی ہے انہیں انصاف دلایا جائے اور ان پولیس افسران کو گرفتار کیا جائے جنہوں نے گھر میں گھس کر ان کے گھر کےسربراہ یونس مسیح کو وحشیانہ تشدد کرکے مارڈالا۔