پیر , 09 نومبر 2020ء
(151) لوگوں نے پڑھا
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں مختلف فنڈنگ ایجنسیز کے ریسرچ پراجیکٹس مقابلہ جاتی بنیاد پر حاصل کرنے کے لئے نوجوان سائنسدانوں کو آگے بڑھنا ہو گا تاکہ اس مسابقتی فضا میں تحقیقی پیش رفت کو انڈسٹری کی ضروریات اور عام کسانوں کے مفاد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ ان باتوں کا اظہار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے اسسٹنٹ پروفیسرز اور محققین کے خصوصی اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب کا اہتمام آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن(ORIC) نے کیا تھا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ تین سال قبل جب انہوں نے وائس چانسلر کے طور پر اپنا دوسرا عرصہ مکمل کیا تھا اس وقت جامعہ میں اربوں روپے کے ریسرچ پراجیکٹس پر کام جاری تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ انتہائی کمی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی قدرومنزلت اور درجہ بندی تحقیقی منصوبہ جات کے حصول کی بنیاد پر کی جاتی ہے لہٰذا اس حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت یقینی بنائی جائے گیاانہوں نے کہا کہ یو اے ایف ملازمین کے مسائل حل کرنے اور ان کو مستقل کرنے کے لئے پنجاب ریگولرائزیشن ایکٹ اپنا رہا ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ نوجوان سائنسدانوں کو زیادہ سے زیادہ تحقیقی منصوبہ جات کے لئے جدید آئیڈیاز پیش کرنے چاہئیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے ہوم ورک کے ساتھ فنڈنگ ایجنسیز میں اپنی تجاویز جمع کرانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کو تحقیقی منصوبوں میں رکاوٹوں کے حوالے سے درپیش مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ دلجمعی کے ساتھ تحقیقی سفر کو آگے بڑھا سکیں۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی کو حال ہی میں طویل عدالتی چارہ جوئی کے بعد ساڑھے چار سو ایکڑ اراضی دستیاب ہوئی ہے جس پر جدید ترین خطوط پر پریسیئن ایگریکلچر کے تناظر میں ماڈل فارمنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کسانوں کے لئے جدید خطوط پر تحقیقی کے تناظر میں ماڈل متعارف کرائے گی تاکہ ملک میں زرعی پیداواریت کے حوالے سے موجود جمود کو توڑا جا سکے۔ تقریب سے ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر، ٹریژرر عمرسعید قادری اور متعدد ریسرچرز نے بھی اظہار خیال کیا۔