Naveed
اتوار , 30 اگست 2020ء
(194) لوگوں نے پڑھا
اتوار 10محرم الحرام یوم عاشور کے موقع پر شہری اپنی۱ٓباء و اجداد، والدین ،بیوی بچوں،بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری ، قرآن پاک کی تلاوت ،فاتحہ خوانی، قبروں کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان پرمٹی ڈالتے رہے جبکہ پھولوں کی پتیاں،چاول،دانہ بھی قبروں پر نچھاور کرتے رہے۔ بعض قبرستانوں میں مٹی نایاب ہوگئی اور بیشتر شہری دور دراز علاقوں سے مٹی منگوانے پر مجبور ہوگئے جبکہ قبرستانوں کے باہرلگائے گئے سٹالز پر دکانداروں نے پھولوں کی پتیوں، موم بتی وغیرہ کے ریٹ بھی بڑھادیئے اور اپنی مرضی کے ریٹ وصول کرتے رہے۔ اس موقع پر بزرگ شہریوں کا کہنا تھا کہ یوم عاشور پر قبرستان آنے کی روایت بڑی پرانی ہے اور اگر انسان یہاں آتا جاتا رہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک دن ہم نے بھی یہاں آنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبرستان میں آکر دعا کرنا اس لئے بھی افضل ہے کہ سانحہ کربلا اور حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی اور ان کے صبرو استقلال کی مثال ہمارے سامنے آجاتی ہے جس سے نیک اعمال کرنے کا جذبہ بیدار اور ظلم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔