Naveed
بدھ , 24 جون 2020ء
(515) لوگوں نے پڑھا
تاندلیانوالہ (2 نومبر 2019ء) تحصیل تاندلیانوالہ میں ننھی طالبہ پر تشدد کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جسے سُن کر انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔ سرکاری سکول کی خاتون ٹیچر نے کلاس دوم کی طالبہ کومبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق تاندلیانوالہ چک نمبر 610گ ب کے گورنمنٹ پرائمری سکول میں با اثر خاتون ٹیچر نے حکومت پنجاب کے’ مار نہیں پیار‘ کے نعرے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے طالبہ کو محض سبق پوچھنے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ 8 سالہ آمنہ اشرف جو کہ گورنمنٹ پرائمری سکول 610گ ب کے سکول میں کلاس دوم میں زیر تعلیم ہے، وہ اپنی ٹیچر بازغہ سے سبق پوچھنے کے لئے گئی توخاتون ٹیچر جو ڈیوٹی کے دوران بھی مبینہ طورپر نجی فون کال میں مصروف تھی، نے مشتعل ہوکر بچی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ ننھی طالبہ نے بتایا کہ ٹیچر بازغہ نے اُسے پہلے گردن سے پکڑ کر دیوار میں مارا اور پھر اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتی رہی۔ اس ظالم ٹیچر کے تشدد سے 8 سالہ آمنہ شدید زخمی ہو گئی۔ جس کے بعد سکول والوں نے اسے زخمی حالت میں گھر بھیج دیا اور اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے اُلٹا والدین کو پیغام بھیجا کہ بچی کوآئندہ اس سکول میں پڑھانے کے لیے نہ بھیجا جائے۔واضح رہے کہ اسی ٹیچر نے چند دن قبل ایک اور طالبہ پر مبینہ تشدد کر کے اُس کا بازو توڑ دیا تھا۔ ورثاء نے متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل کو اس خاتون کے بارے میں درخواست بھی دی لیکن انہوں نے بھی اس با اثر خاتون ٹیچر کے خلاف انکوائری کرنے سے انکار کر دیا۔ ورثاء نے ٹیچر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔