Naveed
اتوار , 07 جون 2020ء
(518) لوگوں نے پڑھا
تاندلیانوالہ، تفصیلات کےمطابق تھانہ صدر تاندلیانوالہ کےنواحی چک نمبر 398 گ ب کے رہائشی مجاہد مرالی جو لاء کا سٹوڈنٹ ہے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دوسرے سمیسٹر کے آن لائن پیپر کی گھر میں تیاری میں مصروف تھا کہ اچانک گھر کی دیواریں پھلانگ کر کچھ اہلکار اندر داخل ہوئے جنہوں نے گھر کا مین دروازہ کھول دیا تو باقی کے اہلکار بھی اندر آگئے۔ اور گھر کے افراد سے بدتمیزی اور گالم گلوچ کرنے لگے اور کمروں کے دروازوں کے لاک توڑ کر اندر سے تلاشی لینے لگے تلاشی کے دوران ٹرنک میں رکھے نقدی تقریباً اڑھائی لاکھ روپے نقد جو کہ سمندری آڑھت سے مکئی دینے کے عوض ملے تھے وہ اٹھالئے پھر قیمتی ایل ای ڈی کودیوار سےاتار لیاگیا دوکین ڈیزل سے بھرے ایک پیڈسٹل فین اور ایک ہنڈہ ون ٹو فائیو جو مجاھد کے نام ہے۔ اسے بھی پولیس وین میں رکھنے کے بعد مجھے بھی بغیر وجہ بتائے غیر قانونی حراست میں لیکر حوالات میں بند کردیا۔ متاثرہ طالبعلم نے میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سی آئی سٹاف کےاہکاروں نے دو روز حوالات میں بند رکھنےکے بعد سوموار کی شام کو اس وقت رہا کردیا جب اس کےآن لائن پیپر کا وقت ختم ہوچکا تھا یوں میری ایک ششماہی ضائع ہوگئی۔ متاثرہ طالبعلم نے شک کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضرور کسی بااثر شخصیت کے کہنے پر کیا گیا ہے جو یوں بغیر کسی وجہ کے بغیر کسی مقدمہ کے پہلے تو مجھے حراست میں لیا گیا پھر مجھے پیپر ٹائم ختم ہونے کے بعد رہا بھی کردیا گیا یہی نہیں ایک ہفتےمیں دو ریڈ ہوچکے پہلا سی آئی اے سٹاف مکوآنہ جب کہ دوسرا پولیس تھانہ صدر تاندلیانوالہ کی طرف سے کیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے مجاہد مرالی کا کہنا تھا کہ ایسےبلا وجہ بغیر کسی مقدمہ کےبغیر کوئی وجہ بتائے پولیس نےانکو تنگ کرنے کی ٹھان رکھی ہے میری آرپی او فیصل آباد رفعت مختار راجہ اورسی پی او فیصل آباد سہیل چوہدری سےالتماس ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اورمیرے مستقبل کو تاریک کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔