Staff Reporter
پیر , 27 جولائی 2020ء
(505) لوگوں نے پڑھا
(23 اکتوبر 2019)فیصل آباد کی تحصیل شورکوٹ کے ایک مکین اسماعیل نے دس لاکھ روپے (6،395 ڈالر) سے زائد رقم کی بچت کی اور سات ماہ "امن کی فاختہ" بنانے میں صرف کیے، جو کہ فائبرگلاس ڈھانچے اور بیرونی کیمروں سے لیس ہے۔ وہ اور ان کے اہلِ خانہ اگلے ماہ اپنے "پاکستان کے امن سفر" پر جانے کے لیے تیار ہیں۔ اسماعیل کا کہنا تھا کہ سال کے اختتام تک، "میں شہریوں اور دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے پاکستان کے 20 شہروں سے گزروں گا: دہشت گردوں کی شکست کے بعد پاکستان ایک پُرامن ملک ہے۔ اسماعیل نے کہا، "فاختہ امن کی علامت ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ہم جہاں بھی جائیں امن کا پیغام دیں۔ اسماعیل کی زوجہ کا کہنا تھا کہ اس مہم کی وجہ پاکستان اور قبائلی علاقہ جات کو ان کے اصل چہرے کے ساتھ دکھانا ہے -- یہ ایک پُرامن چہرہ ہے۔ انہوں نے کہا، "میں نے، اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ، پورے پاکستان کا سفر کیا ہے اور قبائلی علاقوں میں بھی گئی ہوں۔ مجھے بالکل کوئی خوف نہیں ہے؛ یہ ایک پیغام ہے کہ ہم ایک پُرامن قوم ہیں اور امن سے پیار کرتے ہیں۔ انہوں نکہا کہ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہو ہم ان سب کو ایک پیغام دے رہے ہیں جو پاکستان۔۔۔ امن پسندوں کی سرزمین پر آنے سے جھجھکتے ہیں۔آئندہ سفر اس خاندان کا دوسرا سفر ہو گا۔ جنوری میں خاندان محبت اور امن کا پیغام پھیلانے کے لیے امن کی فاختہ کو پنجاب سے افغانستان کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں جنوبی وزیرستان تک لے کر گیا تھا۔ اسماعیل نے کہا، "ہمیں منفی طور پر بطور دہشت گرد دکھایا جاتا ہے،تاہم ایسا نہیں ہے۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک پُرامن ملک ہیں۔ میں نے اپنے بچوں، اپنی بیوی کے ساتھ قبائلی علاقہ جات کا سفر کیا ہے -- مجھے کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ اب قبائلی علاقہ جات اتنے ہی پُرامن ہیں جتنی کی باقی دنیا ہے، اور ہمارا سفر اس کا ایک ثبوت ہے۔