جمعرات , 23 جنوری 2020ء
(439) لوگوں نے پڑھا
تحصیل پتوکی میں مارکیٹ کمیٹی کے عملے کی ملی بھگت سےغیر قانونی دوکانیں تعمیر کی جارہی ہیں، جس کے باعث حکومت کو لاکھوں روپے کا نقصان ہورہاہےجبکہ سرکاری ملازمین بھی ناجائز کھوکھوں کی مد سے لاکھوں روپے کمانے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پتوکی کی دونوں غلہ منڈیوں میں ناجائز کھوکھا جات اور غیر قانونی تعمیر ات سے عوام کا چلنا پھرنا بھی محال ہوگیا ہے،اسی سلسلے میں ڈیفنس آف ہیومین رائٹس سوسائٹی پتوکی کے صدر راحیل اسلم،وائس چیئر مین چودھری غلام رسول کی قیادت میں درجنوں افراد نے مارکیٹ کمیٹی پتوکی کے سیکرٹری شاہد اقبال کے خلاف اسٹیشن چوک روڈ پر احتجاج کیا اور چیف سیکرٹری پنجاب سے اس معاملے پر فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران راحیل اسلم نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی والے25 ناجائز کھوکھوں سے کرا ئے کی مد میں10سے 15 ہزار فی کس وصول کرکے اپنے جیبیں بھرتے ہیں اور ایک پیسہ بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرواتے ، اس کے علاوہ چار دوکانیں بھی غیر قانونی طریقے سے سابقہ سیاسی ایڈمنسٹر یٹر کے ساتھ ساز باز ہو کر تعمیر کی گئی ہیں جس میں وسیع پیمانے پر جعل سازی اور ریکارڈ میں ردوبدل بھی کیا گیا ہے جس سے لاکھوں روپے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجاوزات کے باعث ریل بازار سمیت چوڑی مارکیٹ کو جانے والے دونوں راستے بلاک رہتے ہیں اگر کوئی موٹر سائیکل سوار یا پیدل چلنے والا شخص ناجائز تجاوزات کے بارے میں بات کرے تو کھو کھے والے اس شخص کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ بعض ناجائز تعمیر کی گئی دوکانات کے مالکان کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب،ڈی سی او قصور اور اسسٹنٹ کمشنر پتوکی آصف علی ڈوگر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ناجائز رکھے گئے کھوکھے ہٹائے جائیں اور غیر قانونی تعمیر شدہ دوکانوں کو مسمار کرکے راستے کھلے اور کشادہ کیے جائیں۔