منگل , 06 اکتوبر 2020ء
(3900) لوگوں نے پڑھا
گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ایک ایسی جگہ ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقام کی خاص بات یہاں کے دلکش و دلفریب مناظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔یہ وہی گلگت بلتستان ہے جس کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 میں اس خطے کو خاص پہچان ملی جب سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے امپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے اختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ اس خطے کا نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان میں دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو اور قاتل پہاڑ کے نام سے جانے جانے والا نانگا پربت بھی گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے کل 14 اضلاع ہیں۔ سیاحتی مقامات کی اگر ہم بات کریں تو یہاں درجنوں ایسی جگہیں موجود ہیں جو اپنی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان مقامات کی سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات میں فیری، میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر شندور، ہنزہ بلتت اور التت فورٹ، سکردو میں شگر فورٹ اور گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن اور نلتر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔گلگت بلتستان ثقافتی لحاظ سے بھی کافی تندرست واقع ہوا ہے جہاں میں کم و بیش 9 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تمام زبانیں بولنے والوں کے ثقافت ایک دوسرے سے کچھ مختلف ہیں۔ گلگت بلتستان کے جس ضلع میں آپ جائیں آپ کو قدرت کے حسین نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ آپ سکردو جائیں یا ہنزہ، استور جائے یا دیامیر یا آپ کا سفر وادی غذر کی طرف ہو آپ قدرت کے ان حسین نظاروں سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔ یہاں کے لوگ کافی ہمدرد اور نیک دل واقع ہوئے ہیں۔ خدانخواستہ کہیں آپ کی گاڑی خراب ہو، یا آپ کے ساتھ کوئی اور مسئلہ ہوجائے اور آپ کیساتھ آپ کی فیملی ہو، آپ کو فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں، آپ آس پاس کے گاؤں میں کسی سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ وہ اپنا اولین فرض سمجھ کر آپ کی مدد کریں گے۔ جب آپ خلتی جھیل پہنچ جائیں گے تو وادی گمیس، خلتی اور درمیاں میں جھیل کا حسین نظارہ آپ کا منتظر ہوگا۔ جب آپ پھنڈر کی حسین وادیوں کی سیرو تفریح کریں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ خواب میں کہیں پریوں کی وادی پرستان میں ہو۔ وادی غذر کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے ندی ناکوں اور دریائے غذر میں دنیا کی نایاب مچھلی ٹراوٹ وافر مقدار میں دستیاب ہے آپ کوباآسانی ہوٹلوں اور گیٹ ہاوسز میں ٹراوٹ مچھلی دستیاب ہوگی۔ اگر آپ مچھلی کے شکار کرنے کی مہارت رکھتے ہیں تو آپ پھنڈر میں ہندرپ یا کشش جھیل جاسکتے ہیں۔ پھنڈر سے آپ اگے بڑھیں گے آپ آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھیں گے اور سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شندور پنچ جائیں گے، جہاں دنیا کا سب سے اونچا پولو گرونڈ بھی موجود ہے۔ اس پولو گرونڈ میں جولائی کے پہلے ہفتے شندور میلا سجتا ہے جس میں مشہور زمانہ پولو کھیل کھیلا جاتا ہے اس میلے کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح شندور پہنچ جاتے ہیں۔ شندور میلے میں گلگت بلتستان اور چترال کے پولو کے ٹیموں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ میں امریکی سیاحوں نے پاکستان آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں کو گلگت بلتستان جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں گلگت بلتستان کا شمار سیاحت کے لئے دنیا کی بہترین جگہوں میں ہوتا ہے۔ آپ بھی نفسا نفسی کے اس دور میں شہروں کے بے ہنگم ٹریفک کےشوروغل سے نکل کر ان پرسکون، صحت بخش اور خوبصورت وادیوں کیلئے رخت سفر باندھیں۔