محسن
بدھ , 15 مارچ 2023ء
(153) لوگوں نے پڑھا
یہ ایک
ایسا واقعہ ہے جو کسی سیاسی لیڈر کی اپنے ایک عام سے ورکر کیساتھ محبت اور وفاداری
کا ثبوت دیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ جو لوگ اپنے ورکروں سے پیار کرتے ہیں وہ لوگ
مر کر بھی امر رہتے ہیں ۔آج میں آپ کو ایک ایسا واقعہ سنانے جا رہا ہوں جس کی نظیر
شائد ڈسٹرکٹ قصور کی تاریخ میں ملنا بہت محال ہو گی ۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حسن
اختر موکل ایم پی اے ہوا کرتے تھے اور ایک غریب موچی جس کا نام احمد دین بھٹی جو بستی
قاضی والا کا رہنے والا تھا وہ حسن اختر کا بہت جیالا ہوا کرتا تھا اور سردار حسن
اختر موکل بھی اس سے بہت پیار کرتا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ یہ ان کے ساتھ
مخلص ہے اور اسے ہر الیکشن میں ووٹ اور سپورٹ کرتا ہے ۔بستی قاضی والا میں اس کے
اپنے ایک دو گھر تھے باقی سارا گاؤں شاہ برادری کا تھا ۔ایک دن قاضی والا سے ایک
وفد اس کیخلاف حسن اختر کو موکل ان کے ڈیرے پر جا کر ملا اور حسن اختر سے کہا کہ
اگر وہ احمد دین موچی کو چھوڑ دے تو وہ اور ان کا سارا گاؤں ان کی حمایت کرے گا
۔یہ سن کر حسن اختر کا رنگ لال سرخ ہو گیا اور قاضی والا سے آیے ہوے وفد کو صاف
صاف بتا دیا کہ مجھے ان کے ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے میرے لیے احمد دین اکیلا
ہی کافی ہے اور میں اپنے ایک کارکن کو چند سو ووٹوں کیلئے قربان نہیں کر سکتا
لہٰذا آپ لوگ جا سکتے ہیں یہ سن کر وفد اٹھ کر ڈیرے سے باہر چلا گیا اور آپس میں
مشورہ کرنے کے بعد پھر واپس ان کے پاس آ گیا اور حسن اختر سے کہا کہ ہم تو آپ کو
آزما رھے تھے کہ آپ اپنے ایک عام ورکر کی کتنی عزت کرتے ہیں اور آج سے ہم بھی آپ
کیساتھ ہیں ۔ اس طرح سردار حسن اختر موکل نے اپنے ایک عام ورکر کے ساتھ جہاں اپنی
وفاداری کا ثبوت پیش کیا وہاں اپنی وفاداری دکھا کر سارے گاؤں کی ہمدردی بھی حاصل
کر لی -