Junaid
منگل , 17 دسمبر 2019ء
(401) لوگوں نے پڑھا
جب کوئی ہمارے درمیان موجود ہوتا ہے اور جب تک کوئی ہمارے درمیان سانس لے رہا ہوتا ہے اور اس کی زندگی کی ڈور ابھی سلامت ہوتی ہے اُس وقت تک ہمیں اس کی خوبیوں کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا انسان اور کتنا بڑا لکھاری ہمارے عہد میں موجود ہے اور ابھی ہمارے ساتھ سانس لے رہا ہے۔پھر جب وہ رخصت ہوجاتا ہے تو ہم اس کی زندگی کا احوال معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لکھے ہوئے گیتوں کو تلاش کرتے ہیں۔ اس کی کتابوں کو کسی کونے کھدرے سے نکال کر اُن پر سے گرد صاف کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنی کوئی پرانی تصویر تلاش کرکے سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں اور پھر دنیا کو بتاتے ہیں کہ ایک بڑا اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ایسا ہم نے بہت سے لوگوں کے ساتھ کیا۔ سردست دو مثالیں ہی کافی ہیں۔ ایک ڈاکٹر انور سجاد اور دوسری لیاقت علی عاصم کی۔ ان دونوں نے بھی شعر و ادب اور فنون لطیفہ کی بھرپور خدمت کی۔ لیکن ہم نے ان کے زندگیوں میں ان کی خبر گیری کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹر انور سجاد کی اگر امداد بھی کی گئی تو پھر ایک ویڈیو بنوا کر وائرل کرنا بھی ضروری سمجھا گیا، جس میں یہ انا پرست لکھاری اور اپنے زمانے کا خوبصورت اور باصلاحیت فنکار حکمرانوں کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ انہوں نے بیت المال سے ’خطیر‘ رقم اسے عطا کردی ۔ ایسی ہی صورت حال اُس وقت دیکھنے میں آئی جب 15 جولائی کو نامور شاعر اور ماہرِ تعلیم حمایت علی شاعر کینیڈا میں انتقال کرگئے۔یہ 1981 کا سال تھا۔ سول لائنز کالج ملتان کے ایک مشاعرے میں مجھے نظم اور شاکر حسین شاکر کو غزل پر پہلے انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔ نامور نقاد جابر علی سید، ہائیکو کے بانی پروفیسر محمد امین اور پروفیسر حسین سحر منصفین میں شامل تھے۔ مشاعرے کے بعد ہمیں انعام میں جو کتاب دی گئی، اس کا نام ’مٹی کا قرض‘ تھا اور مٹی کا یہ قرض حمایت علی شاعر نے چکایا تھا۔یہ حمایت صاحب کا شعری مجموعہ تھا اور اسی کتاب کے ذریعے ہم پہلی بار حمایت صاحب سے متعارف ہوئے۔ یہ کتاب اگرچہ اب بہت خستہ ہو چکی ہے لیکن ہم نے آج بھی اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ حمایت علی شاعر کا اس کتاب کے ذریعے ہمارے ساتھ ابتدائی تعارف ہوا اور پھر آنے والے برسوں میں اقبال ارشد اور حسین سحر نے حمایت صاحب کی رفاقت میں گزرے بہت سے لمحات اور ان کے حوالے سے کئی واقعات ہمیں اس تواتر سے سنائے کہ ہمیں حمایت صاحب سے ملے بغیر ہی محبت ہوگئی۔ ایک اپنائیت کا احساس ہوتا تھا حمایت صاحب کا نام سن کر اور اس لیے ہوتا تھا کہ ہمارے یہ بزرگ انہیں اپنا سمجھتے تھے۔حمایت صاحب سے محبت کا ایک اور حوالہ ہائیکو نے عطا کیا۔ جب 80ء کے عشرے میں ڈاکٹر محمد امین نے یہ جاپانی صنف سخن پاکستان میں متعارف کروائی تو یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ تین مصرعوں کی نظم ثالثی کا تجربہ تو حمایت علی شاعر پہلے ہی کرچکے ہیں۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی شاعر یا ادیب نے کسی صنف کا پہلے سے تجربہ کیا ہو اور اس سے ملتی جلتی صنف بعد ازاں متعارف کرائی جائے تو وہ شاعر یا لکھاری بہت شور مچاتا ہے۔ لیکن حمایت علی شاعر کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔حمایت علی شاعر کے ساتھ محبت کا ایک اور حوالہ ان کے صاحبزادے اوج کمال کے ساتھ ہماری دوستی کی صورت میں مستحکم ہوا۔ ان کی وفات سے ایک روز قبل 14 جولائی کو ہی اوج کمال کے ذریعے ان کی سالگرہ کی خبر ملی۔ حمایت صاحب کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ اس مرتبہ انہیں ان کی سالگرہ کی خبر بھی ہوئی یا نہیں اس بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں کہ طویل عرصہ سے وہ یادداشت بھی کھوچکے تھے اور کسی کو پہچانتے بھی نہیں تھے۔