Junaid
منگل , 17 دسمبر 2019ء
(871) لوگوں نے پڑھا
فن خطاطی خالص اسلامی فن ہے اور یہ صدیوں سے مسلمانوں کے اعلیٰ ذوق کا آئینہ دار رہا ہے۔ اس فن کو جلا بخشنے والوں میں اساتذہ، طلباء اور اہل علم کے ساتھ ساتھ مسلمان بادشاہوں، سلاطین اور شہزادوں کا بھی کردار رہا ہے۔فن خطاطی کا استعمال سب سے پہلے قرآن مجید کی کتابت سے ہوا۔ پھر اس شعبے میں مسلمان خطاطوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر روبینہ ترین نے اپنی حالیہ کتاب "ملتان کی ادبی و تہذیبی زندگی میں صوفیائے کرام کا حصہ" میں لکھتی ہیں کہ ملتان کے صوفیاء نے فن کتابت کی ترویج اور ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس فن کے تاریخی ارتقاء کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی کے دور میں خط نستعلیق کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ نے جو مدرسہ قائم کیا اس میں دینی علوم کے علاوہ خطاطی اور جلد سازی کے فنون سکھائے جاتے تھے۔ اس زمانے میں شمسی الدین بلخی جیسا خطاط بھی ملتان میں موجود تھے جس سے بہت سے لوگوں نے فن خطاطی سیکھا۔ہندوستان میں فن خطاطی کا آغاز عربوں کی آمد سے ہوا۔ کہا جاتا ہے محمد بن قاسم کیساتھ بہت سے عالم دین، حفاظ اور کچھ خطاط بھی آئے جنہوں نے پہلے سندھ اور اس کے بعد ملتان میں اس فن وادب کی داغ بیل ڈالی۔ اس سلسلے میں عبید بن احمد بغدادیؒ کا نام آتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے ملتان میں فن خطاطی کا آغاز کیا۔ اُس وقت فن خطاطی صرف قرآن مجید کی کتابت تک ہی محدود تھی۔لیکن بعد میں قرآنی آیات کی خطاطی کا فن مساجد و مزارات کے دیواروں اور محرابوں پر اسمائے ربانی اور عربی و فارسی اشعار کی صورت میں نظر آنے لگا۔ ملتان میں آج بھی شاہ رکن عالم، بہا اُلدین زکریا، شاہ یوسف گردیزی، ساوی مسجد اور مسجد ولی محمد خان کے علاوہ یہاں کی دیگر قدیم مساجد و مزارات کے کتبوں اور محرابوں پر بھی فن خطاطی کی نقوش اور جلوہ آرائی دیکھی جاسکتی ہے۔خطاطی کے ان فن پاروں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملتان میں فن خطاطی کی روایات کتنی قدیم اور شاندار ہے۔