جمعرات , 22 جنوری 2026 ء
ٓاپ کو معلوم ھے کہ ٓاپ کے علاقہ کوئٹہ میں کیا ہو رہا ہے؟

فیصل آباد ڈویژن

پیر علیزئی کے مقام پر ٹریفک حادثے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے غفار خان ہدہ والا کی ہلاکت معمہ بن گئی دو روزہ اسپیشل اسپورٹس فیسٹول بائی پاس روڈ پرانجمن ٹیسٹی فالودہ کا افتتاح گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت کیخلاف مہم جاری تازہ ترین خبریں

کوئٹہ: نان بائیوں کی ہڑتال کا 5 واں دن

کوئٹہ: نان بائیوں کی ہڑتال کا 5 واں دن
Javed منگل , 27 اکتوبر 2020ء (405) لوگوں نے پڑھا
کوئٹہ میں گذشتہ روز نان بائیوں کی ہڑتال کے پانچ روز مکمل ہو گئے۔ یہ ہڑتال آٹا مہنگا ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ نان بائیوں کا موقف ہے کہ آٹے کی سو کلو والی بوری سات ہزار روپے میں مل رہی ہے جبکہ روٹی کی قیمت نہیں بڑھی لہٰذا حکومت آٹا سستا کرے یا پھر روٹی کی قیمت بڑھائی جائے۔ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ نان بائیوں کے اس مطالبے سے وہ متفق نہیں ہیں کہ روٹی کی قیمت بڑھائی جائے البتہ حکومت کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے۔ بعض رہائشیوں کا کہنا تھا کہ پہلے بھی نان بائیوں نے ہڑتال کی تھی لیکن آٹا سستا نہ ہونے کی وجہ سے روٹی کے وزن میں کمی کر دی گئی۔ حکومت کی طرف سے مقرر ہ وزن (فی روٹی 250 گرام) کی قیمت 20 روپے ہے جبکہ گذشتہ ہڑتال کے بعد نان بائیوں نے گراموں میں کمی کر دی تھا۔ اس وقت شہر میں روٹی کی شدید قلت ہے۔ ریستورانوں میں فی روٹی 60 روپے جبکہ آدھی روٹی تیس روپے کی قیمت پر بیچی جا رہی ہے۔ ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ وہ خود بلیک مارکیٹ سے روٹی خرید رہے ہیں۔ زیادہ تر روٹی کینٹ، کچلاک، گلستان اور دیگر علاقوں سے لا رہے ہیں۔ تندوروں کو احتجاجی طور پر بند کرنے کی وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہوگئے ہیں بالخصوص ان لوگوں کے لیے جن کے اپنے گھر کوئٹہ میں نہیں۔ خاص طور پر مزدور اور طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک ریستوران مالک کا کہنا تھا کہ وہ دن میں تین ساڑھے تین ہزار کا سالن بیچتا تھا جبکہ نان بائیوں کی ہڑتال کی وجہ سے اس نے ایک روپے کا سالن بھی نہیں بیچا۔ ”ایک طرف روٹی ملتی نہیں ہے تو دوسری طرف مہنگی اور ٹھنڈی روٹی کی وجہ سے گاہک آتے نہیں، اس لیے میرا سارا کاروبار جام ہوگیا ہے۔ دوسری طرف بڑے ہوٹلوں میں، جہاں تک عام آدمی کی رسائی نہیں ہے، ہڑتال سے کچھ اثر نہیں پڑا نہ ہی کوئٹہ کینٹ میں ایسا کوئی مسئلہ ہے۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے بھی کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسے میں اس مسئلے پر کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔
  • انتظامیہ
  • علاقائی مسائل

Email will Not publish publicly. Please access our Privacy Policy to learn what personal data MeriDharti.pk collects and your choices about how it is used. All users of our service are also subject to our Terms of Service.

Recieve News alerts?

Log in to get started

Forgot your password?

New to MeriDharti.pk? Sign up now